انٹر کالج میں پرائمری حصہ کھلے آسمان تلے، چھت و عمارت کی عدم فراہمی لمحہ فکریہ ہے

Share Button

سماہنی ( بدر جعفری ) سیاسی سرگرمیوں کا مرکزی کیمپ چوکی انٹر کالج کا درجہ تو پا گیا تاہم پرائمری میں زیر تعلیم طلباء کو عمارت میں شفٹ نہ کیا جا سکا ،محدود کمروں پر مشتمل مڈل حصہ بھی کھلے آسمان تلے ہے ،عمومی تاثر ہے کہ چوکی کے اس کالج و احاطہ میں سیاسی جماعتیں اپنی تقاریب ،جلسوں کا انعقاد بھی اسی پرائمری سکول کے گراونڈ میں کرتی ہیں ،قدیم درسگاہ کو ہمیشہ نظر انداز کیا گیا ،سابق وزیر حکومت و ممبر اسمبلی علی شان سونی کی آبائی یونین کونسل چوکی کا مرکزی پرائمری سکول آج کے اس جدید دور میں کھلے آسمان تلے آپنی تدریسی عمل جاری رکھے ہوئے ہے گنجان آبادی کے اس سکول میں سہولیات فراہمی ایک خواب بن چکا ہے ،حصول تعلیم کیلئے پروان چڑھانے والا ابتدائی ڈھانچہ ہی مسائل کی دلدل میں ہے ،پرائمری شعبہ کیلئے چھت و عمارت کی عدم فراہمی لمحہ فکریہ ہے اور اساتذہ طلباء و غریب والدین کا تدریسی تال میل موسموں کے حالت و کرم پر ہے چوکی کی اس انٹر کالج سے ملحقہ آبادی کا مطالبہ ہے کہ چھوٹے بچوں کے بیٹھنے کا سکول میں انتظام ہونا انتہائی ضروری ہے چوکی کا یہ پرائمری سکول تعلیم دشمنی کا منہ بولتا ثبوت ہے گذشتہ قدیم عرصہ سے سکول کی عمارت نہ ہونے سے بچے کھلے آسمان تلے تعلیم جاری رکھے ہوئے ہیں عمارت اور سہولیات نہ ہونے سے بڑی تعداد میں والدین اپنے بچوں کو پرائیویٹ تعلیم دینے پر مجبور ہیں پرائمری سکول جس کھلے گراونڈ میں آباد ہے یہاں پر گذشتہ کئی دیہایوں سے بڑئے بڑئے سیاسی لیڈر ،منتخب سیاسی نمائندے اور آزادکشمیر کے بیشتر وزیر اعظم اور وفاقی وزراء اس سکول گراونڈ میں جلسے اور تقاریب سے عوام سے مخاطب بھی رہے ہیں چوکی یونین کونسل کے عوامی حلقوں نے حکومت آزادکشمیر کے وزیر اعظم اور وزیر تعلیم سے اپیل کرتے ہوئے کہا ہے کہ چوکی کہ تاریخ ساز اس سکول کی عمارت کو فوری تعمیر کیا جائے تاکہ غریب عوام کے بچے تعلیم کے زیور سے آراستہ ہوسکیں ۔

Facebook Comments
Share Button

About admin