سانحہ سیری بنڈالہ کو 21سال گزر گئے ،شہداء کی یادگار تعمیر نہ ہوسکی

Share Button

سماہنی (ادریس چوہدری ) سانحہ سیری بنڈالہ کو 21سال گزر گئے ،شہداء سیری بنڈالہ کی یادگار تعمیر نہ ہوسکی ،26اور 27اپریل کی درمیانی شب انڈین بلیک کمانڈو نے ظلم و بربریت کرتے ہوئے مصوم بچوں سمیت 22افراد کو بے دردی سے شہید کر دیا تھا ،سماہنی سیکٹر کے گاؤں سیری بنڈالہ میں بھارتی فوج کے ہاتھوں رونما ہوئی دہشت گردی کے اس اندوناک واقعہ پر پوری دنیا میں مذمت کی گئی تھی ،ستم ظریفی کے طویل لمحات گزر گئے مگر تحریک آزادی کشمیر کیلئے اس اجتماعی شہادتوں کی تاریخ رقم کرنے والے شہدا ء کی تاحال یادگار تعمیر کروانے کا وعدہ ایفا نہ ہو سکا ،شہادتوں کی اس بے مثال تاریخ کے ورثاء کیلئے حکومتوں نے کسی قسم کا مالیاتی پیکج دیا نہ ہی ملازمتوں کے حقوق مہیا کیے جا سکے ،رات کی تاریکی میں 21سال قبل ہندوستان کی پیشہ ور بلیک کیٹ کمانڈو زنے سویلین اور بے گناہ شہریوں کو لائن آف کنٹرول سے انتہاہی ملحقہ سیری بنڈالہ میں 2 رہائشی خاندانوں کے افراد کو سوتے ہوئے دہشت گردی کا نشانہ بنایا ،اس دہشت گردی میں انڈین کمانڈو نے کیمیائی ہتھیاروں ،خنجروں اور بے آواز بندوقوں کا استعمال کیا معصوم بچوں کے اعضا ء منسخ کیے ،شہداء کے خون سے دیواروں پر پاکستان مخالف تحریریں لکھیں ،اس دہشت گردانہ کاروائی کا نشانہ بننے والے چوہدری کالاخان کے خاندان سے 12افراد جبکہ ماسٹر محمد زبیر منہاس کے خاندان کے 10افراد جن میں دو مہمان بھی تھے جو پنچاب سے آئے تھے بھارتی بربریت کا نشانہ بنے ،قابض بھارتی فوج جو لائن آف کنٹرول پر نہتے کشمیریوں پر ظلم کر رہاہے انسانیت سوز کاروئیوں اور بے گناہ و معصوم کشمیریوں سے اس کے ہاتھ خون سے لت پت ہیں ،کشمیری جو لائن آف کنٹرول پر دفاع پاکستان کا مضبوط حصار ہیں گذشتہ کئی عشروں سے جانی و مالی قربانیاں پیش کرتے آرہے ہیں ،لائن آف کنٹرول سماہنی سیکٹر جسکی دو تہائی آبادی بھارتی مورچوں کے سامنے سینہ سپر ہو کر دشمن ملک کی بلا اشتعال گولہ باری و فائرنگ کا سامنا کرتے ہوئے سینکڑوں انسانی جانوں کا نذرانہ دے چکی ہے درجنوں افراد زخمی ہو کر معذوری کی زندگی گزار رہے ہیں مال مویشی کو مورچوں کے سامنے آتے ہی نشانہ بنا کر ہلاک کر دیا جاتا ہے فصلوں کی کاشت کے دوران تیار فصلوں پر گولے برسا کر جلا دیا جاتا ہے سیری بنڈالہ کے ان شہداء کی قربانی تحریک آزدی کشمیر کے سنہرے اوراق کا حصہ ہے ،ان شہداء کے اعزاز میں آزاد کشمیر میں سرکاری سطح پر ان کی برسی کا منایا جانا ضروری ہے ستم ظریفی ہے کہ اجتماعی قربانی کی مثال قائم کرنے والے ان شہداء کو خراج عقیدت پیش کرنے کیلئے سفارتی محاذ کا سرگرم نہ ہونا لمحہ فکریہ ہے آزادکشمیر کے جملہ مکاتب نے سیری بنڈالہ کے ان 22شہداء کی قربانی کو تحریک آزادی کشمیر اور تکمیل استحکام پاکستان کی قربانی سے تعبیر کرتے ہوئے سرکاری سطح پر ان کی یادگار تعمیر کرنے اور بیس کیمپ میں عام تعطیل کرنے کی ضرورت پر ذور دیا ہے

Facebook Comments
Share Button

About admin