’پیپلز بس سروس‘ کا نام دیا گیا

Share Button

ملک کے سب سے بڑے شہر کراچی میں پانی، بجلی، گیس اور دیگر مسائل کے ساتھ ساتھ ٹرانسپورٹ کا مسئلہ بھی دن بدن سنگین ہوتا جارہا ہے جبکہ عوام بس امیدیں ہی باندھتے رہ جاتے ہیں کہ ایک نہ ایک دن ان کے مسائل حل نہ ہوں لیکن کسی حد تک کم ضرور ہوجائیں۔

2 کروڑ آبادی کے اس شہر میں ہر سڑک کا تو برا حال ہی ہے لیکن اس پر چلنے والی ہر بس کا حال بھی کسی سے ڈھکا چھپا نہیں، شہری خستہ حال بسوں اور انتہائی خطرناک چنگچی رکشوں میں سفر کرنے پر مجبور ہیں۔

شہر میں پبلک ٹرانسپورٹ کے اس فقدان کو ختم کرنے کے لیے بہت سے منصوبے شروع کرنے کے اعلان تو کیے گئے لیکن ان میں بےجا تاخیر نے شہریوں کے سفر کو مزید مشکل بنا دیا ہے۔

عوام کی رائے جانیں تو کہتے ہیں کہ گو سندھ میں گزشتہ 11 سال سے ایک ہی جماعت پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کی حکمرانی ہے، لیکن مستقل ایک جماعت کو موقع ملنے کے باوجود عملی طور پر شہر میں کسی بھی شعبے میں وہ ترقی نظر نہیں آتی، جو ایک صوبائی دارالحکومت میں ہونی چاہیے۔

سوشل میڈیا پر پر آپ کو تبصرے نظر آتے ہیں کہ صوبائی حکومت نے کبھی بھی اپنی ذمہ داری کا احساس کچھ اس طرح کیا کہ وہ آٹے میں نمک کے مترادف تھا، جس کی ایک مثال شہر قائد کو سندھ حکومت کی جانب سے نجی کمپنی کے اشتراک سے دی گئی 10 ’ایئرکنڈیشن‘ بسیں تھیں۔

ایک برس قبل اپریل 2018 میں ہی سندھ حکومت کی جانب سے نجی ٹرانسپورٹ کمپنی ڈائیوو کے تعاون سے 10 ایئرکنڈیشن بسیں متعارف کروائی تھیں اور اسے ’پیپلز بس سروس‘ کا نام دیا گیا تھا۔

اس سروس کے آغاز پر عوام کی قلیل تعداد نے جہاں خوشی کا اظہار کیا تھا وہیں بہت بڑی تعداد میں لوگ حکومت سندھ پر یہ کہتے ہوئے تنقید کرتے نظر آئے تھے کہ 2 کروڑ آبادی کے شہر میں صرف 10 بسیں مذاق ہے اور یہ مسافروں کی تعداد کے مقابلے میں کم ہے۔

Facebook Comments
Share Button

About admin