بوسیدہ حال عمارت میں قائم سماہنی کا ایک اور سرکاری سکول منظر عام پر آگیا

Share Button

سماہنی ( سٹاف رپورٹر)خطرناک حشرات کا مسکن ،بوسیدہ حال عمارت میں قائم سماہنی کا ایک اور سرکاری سکول منظر عام پر آگیا ،سرسالہ گوڑھا میں قائم پرائمری سطح کی درسگاہ 10مرلہ کے احاطہ میں تعمیر شدہ کمرہ بھوت بنگلہ کی منظر کشی کرنے لگا ،مرکزی شاہراہ سے محض 500میٹر شمالی پہاڑ سے ملحقہ آبادی کا سکول حکومتوں اور بیور و کریسی کی غفلتوں کے باعث تدریسی عمل کو دور جدید کے تقاضوں کے مطابق نہ ڈھال سکا ،بھوت نما کمرا زہریلے حشرات کے مسکن میں تبدیل سکول کا محدود احاطہ ناکافی ،سکول میں باتھ ،پانی و بجلی کی سہولیات کا وجود مکمل غائب ،مسجد سکول گوڑھا سرسالہ جو کہ گنجان آبادی کے عین قریب قائم ہے 20سال سے قائم سکول کی حالت بد سے بدترین ہو چکی ہے بظاہر سکول میں طلباء و طالبات کی بنیادی تعلیمی ضرورت کیلئے قائم کیا گیا لیکن سکول کی حالت سہولیات نہ ہونے کے باعث غریب والدین بچوں کے تعلیمی مستقبل سے سخت پریشان ہیں ریاستی میڈیا کے سروے کے مطابق سکول میں 25کے قریب طلباء و طالبات زیر تعلیم ہیں جن کی تدریس پر 2عدد فی میل اساتذہ مامور ہیں ،رپورٹ کے مطابق طلباء و طالبات کو سخت گیر موسموں کا بھی مقابلہ کرنا پڑتا ہے سنگل کمرہ بھی قابل مسمارگی حالت میں ہے چھت بوسیدہ ہو چکی ہے طلباء و طالبات کے بیٹھنے کی کوئی سہولت نہیں کوڑا کرکٹ اور دھول اور مٹی پر تدریسی عمل جاری ہے سکول سٹاف کیلئے اور طلباء و طالبات کیلئے فرنیچر کا وجود بھی غائب ہے سرسالہ گوڑھا کے صوفی محمد دین مرحوم نے سکول کیلئے دس مرلہ رقبہ وقف کیا جو سکول کیلئے ناکافی ہے ،مقامی معززین نے حکومت آزادکشمیر سے مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ سرسالہ گوڑھا کے سکول کو توسیع دی جائے سکول کیلئے عمارت بنائی جائے پانی اور بجلی کی سہولت بھی فراہم کی جائے تاکہ طلباء و طالبات بہتر طریقہ سے اپنی تدریسی سرگرمیاں جاری رکھتے ہوئے عصر حاضر کے تقاضوں کے مطابق سہولیات سے استفادہ حاصل کر سکیں 

Facebook Comments
Share Button

About admin